HomeAuthorsContact

تعمیراتی شعبے کو مہنگائی کے عفریت کےپنجے سے نکالئا لازم ہے

By Arif Mustafa
Published in Star News
March 2, 2022
4 min read
تعمیراتی شعبے کو مہنگائی کے عفریت کےپنجے سے نکالئا لازم ہے

کسی ملک کی معیشت کس حال میں ہے معاشی و اقتصادی تجزیہ کاروں کے لئے اس کو جانچنے کے ایک نہیں کئی پیمانے ہیں ، کوئی بیلنس آف ٹریڈ کو اہمیت دیتا ہے تو کوئی زرمبادلہ کے ذخائرکے حجم سے جانچتا ہے اور کسی کو اس کی برامدات کی کمائی سے سروکار رہتا ہے لیکن اس ضمن میں زیادہ تر کی توجہ کا مرکز کسی ملک کی پیداواری سرگرمیاں ہی رہتی ہیں اور بالعموم اس حوالے سے ملک کے تعمیراتی سیکٹر کو بھی زیرغور لایا جاتاہے ، باقی پیداواری و اقتصادی سرگرمیوں کا نمبر اس کے بعد آتاہے کیونکہ بالکل سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ جب عوام کے پاس زیادہ پیسے ہوتے ہیں تو وہ اسے زمین جائیداد کی سرمایہ کاری میں استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہشعبہ زیادہ سرمائے کا طالب ہوتا ہے

ملکی معیشت میں تعمیراتی سیکٹر کے اس پیمانے کو سامنے رکھیں تو یہ پیمانہ پاکستانی معیشت کی جو تصویر پیش کررہا ہے وہ کسی طور اطمینان بخش نہیں ہے کیونکہ تعمیراتی شعبہ انحطاط کا شکار ہے اور ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی سرگرمیاں پھیکی پڑی معلوم ہوتی ہیں ۔۔۔ ظاہر ہے کہ اس کی بڑی وجہ تلاش کئے بغیر اس میں بہتری لائی جانا بھی ممکن نہیں ۔۔۔ یہ وجوہات کیا ہیں انہیں جاننے کے لئے ویسے تو متعدد پہلوؤں کا تجزیہ کرنا پڑسکتاہے مگرایک وجہ بڑی واضح ہے اور وہ ہے مہنگائی ، جس سے ویسے تو سارا ملک ہی بری طرح متاثر ہوا ہے مگر تعمیراتی شعبے کے سامان کی قیمتوں کو تو جیسے پر ہی لگ گئے ہیں اور اس وجہ سے سیمنٹ سریا اور دیگر تعمیراتی سامان کی فروخت پہ بھی بہت برا اثر پڑا ہے- اس صورتحال کی گھمبیرتا کو ان اعداد و شمار کی روشنی میں بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ مقامی سیمنٹ کی فروخت سال بہ سال 16 فیصد کم ہوکر 3.4 ملین ٹن کی سطح پہ آگئی ہےاور کچھ ایسی ہی صورتحال سریئے اور دیگر تعمیراتی سامان کی بھی ہے-

نئے سال کا آغاز ہی تشویشناک صورتحال سے ہوا ہے کیونکہ اس سال جنوری میں برآمدات میں چار پانچ فیصد نہیں بلکہ پورے 21 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے- اس پریشان کن معاملے پہ پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے ترجمان نے کہا ہے کہ سیمنٹ کی پیداوار گرنے کے علاوہ ، ایک اہم عنصر سمندر کے ذریعے برآمدات میں بڑی کمی کا بھی ہے اور اس کا سبب پورٹ پہ دستیاب کنٹینرز کی کمی ہے ،،، اس وقت عالم یہ ہے کہ کنٹینرز کی طلب میں اضافے کے نتیجے میں کنٹینرز کی مال بردار کرایہ داری کی لاگت کم ازکم 3 گنا بڑھ چکی ہے جس کے باعث پاکستانی سیمنٹ اب بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں‌ رہا ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی برمحل ہے کہ حالانکہ تعمیراتی سیکٹر کی نمو و بہتری کے لئے موجودہ حکومت نے کئی غیرمعمولی اقدامات کئے ہیں حتیٰ کہ اس شعبے کو انڈسٹری کا درجہ تک دے دیا گیا ہے اور بہت سی فراخدلانہ مراعات اور سہولتوں‌کا اعلان بھی کیا جاچکا ہے مگر مہنگائی کے طوفان سے پیدا شدہ بحران نے سب کوششوں‌ پہ جیسے پانی ہی پھیر دیا ہے اور تعمیراتی شعبے کی تو جیسے چولیں ہی ہلا کے رکھ دی ہیں اور اس شعبے کے بحران کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ ملکی معیشت کو حقیقی خطرہ لاحق ہے ، کیونکہ تعمیراتی شعبہ وطن عزیز میں زراعت کے بعد سب سے بڑی لیبر فورس کو روزگار دینے والا شعبہ ہے۔۔۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی خطرات کے سگنل کواب پوری احتیاط اور تؤجہ سے سن لیا جائے اور ان تمام پہلوؤں‌کی اصلاح کی طرف تؤجہ دی جائے جو کہ قیمتوں میں‌تیزی سے اضافہ کا باعث بن رہے ہیں- یہ صورتحال بتارہی ہے کہ اس سلسلے میں اب حکومتی زعماء کو اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ سر جوڑ کے بیٹھ چانا چاہیئے اور اپنی پوری تؤجہ اس صورتحال کی فول پروف اصلاح پہ دینی ناگزیر ہوچکی ہے ورنہ جہاں ایک طرف اس سے ملکی معیشت کومے میں چلی جائے گی تو دوسری طرف ملک میں بیروزگاری کا عفریت امن و امان کے خوفناک مسائل کو جنم دے گا اور اس کے باعث ایک عام آدمی کا اپنی چھت پانے کا خواب بھی ادھورا ہی رہ جائے گا اور یہ وہ بات ہے کہ جو موجودہ حکومت کے انتخابی منشور کا بھی حصہ ہے اور جسے پورا کئے بغیر دوبارہ ووٹر کا سامنا کرنا بھی مہنگا پڑ سکتا ہے


Tags

© 2022, All Rights Reserved.

Quick Links

Advertise with usAboutContact Us

Legal Stuff

Social Media