HomeAuthorsContact

راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ منصوبہ

By Arif Mustafa
Published in Star News
February 22, 2022
5 min read
راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ منصوبہ

اک نئے اور خوبصورت شہر کی تعمیر کا آغاز

کرونا کے ہاتھوں معاشی و اقتصادی سرگرمیوں کو پہنچنے والے شدید نقصانات نے ملکی معیشت کو جس جمود میں مبتلاء کردیا تھا ، اب اس سے نکلنے کا سفر شروع ہوچکا ہے اور سی پیک پہ کام کی رفتار میں تیزی لائی جانے کے علاوہ راوی ریور فرنٹ منصوبے کی بحالی اور کام کا دوبارہ آغاز اس کے واضح اور حوصلہ افزاء اشارے ہیں- اس سلسلے میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے 25 جنوری کو دیئے گئے اس حکم کو معطل کردیا ہے جس میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) ایکٹ 2020 کی کئی دفعات کو غیر آئینی قرار دے کر اس پہ جاری کام کو روک دیا تھا- لاہور ہایکورٹ کے مذکورہ حکم کو پنجاب حکومت نےسپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا کیونکہ وزیر اعظم عمران خان نے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ منصوبہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے قیام کے بارے میں نہیں ہے ، بلکہ اسلام آباد کے ماڈل پر ایک نئے پلان کے تحت شہر بنانے کے بارے میں ہے۔.

راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ منصوبہ ملکی تاریخ کا نہایت کثیراور تاریخی لاگت کا ایسا منصوبہ ہے کہ جس کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 5 ٹریلین امریکی ڈالر کےلگ بھگ ہے اس میگامنصوبے کا افتتاح 7 اگست 2020 کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کیا تھا اور چار ماہ کے بعد ہی اس کی تعمیر بھی شروع کردی گئی تھی اور اس میں سرمایہ کاروں کی کشش کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ برس جنوری 2021 تک ، اس نے غیر،ملکی سرمایہ کاروں سے 8 بلین امریکی ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی توجہ مبذول کروالی تھی۔- اس منصوبے کی تکمیل 2025 میں ہونی ہے

منصوبے کی خاص خاص اہم باتیں یہ ہیں-

راوی ریور فرنٹ منصوبے کا ماسٹر پلان دراصل دریائے راوی کے کنارے ایک جدید شہر تعمیر کرنے کا نظریہ ہے جس کا خیال 1947 میں اس وقت کے نائب کمشنر لاہور نے دیا تھا جو کہ بنیادی طور پہ اس منصوبے سے لیا گیا ہے جس کے تحت لندن میں دریائے ٹیمز کے پانی کے ذریعے اس کے آس پاس وسیع پیمانے پہ کئے گئے ترقیاتی اقدامات رو بہ عمل لائے گئے تھے- افسوس کہ اس منصوبے پہ عملی پیشرفت بت زیادہ تاخیر سے 2014 سے پہلے اس وقت ہی ممکن نہ بنائی جاسکی کہ جب لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس منصوبے کی ترقی کے لئے دریائے راوی پر فزیبلٹی اسٹڈی چلانے کے لئے سنگاپور میں قائم آرکیٹیکچرل فرم مین ہارڈ گروپ کی خدمات حاصل کیں- یہ گرینڈ منصوبہ شمال اور مغربی اطراف میں لاہور سے متصل ہے ، جس میں گرین بیلٹ ، گھاٹ اور بورڈ واک کے ساتھ ساتھ 1.4 ملین رہائشی یونٹ شامل ہیں-

جب 2013 میں حکومت پنجاب نے اس عظیم منصوبے پر غور کرنا شروع کیا تو ابتدا میں پلان میں اس کے رقبہ کی حد 18،000 ہیکٹر (44،000 ایکڑ) رکھی گئی تھی جو 2020 میں دگنی سے زائد بڑھا کر 41 ہزار ہیکٹر کردی گئی کیونکہ اس کا 70فیصد رقبہ جنگلات اور زرعی امور کے لئے وقف کیا گیا ہے - 5 کھرب پاکستانی روپیہ کے اس عظیم منصوبے کا مقصد ضروری ترقیاتی کاموں‌کی مدد سے دریائے راوی کو طویل عرصے تک اور سال میں ہر وقت میٹھے پانی کی فراہمی کا ایک دیرپا ذریعہ بنانا ہے جس سے آس پاس کی آبادیوں اور ملحقہ زمین پہ بسنے والے تقریبا 35 ملین باشندے مستفید ہوسکیں گے اور وہاں اعلی معیار کی شہری ترقی ممکن ہوسکے گی- اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں ایک جھیل ، ایک شہری جنگل ، تین بیراج اور چھ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی تعمیر کیے جائیں گے اوراگر ضرورت ہو تو ، بالائی چناب کینال اور بی آر بی نہر کو ترقی کو پانی فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔.

اپنے حالیہ فیصلے میں جاری کئے گئے حکم میں سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر علی اکبر نقوی پر مشتمل بینچ نے روڈا اور دیگر منسلکہ ایجنسیوں کو اس امر کا بھی پابند کردیا ہے کہ وہ اپنے کاموں کو روای ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ منصوبے کے لئے صرف باضابطہ طور پہ ادائیگی کرکے حاصل کی گئی زمین تک ہی محدود رکھیں جس سے کسی بھی قسم کی زیادتیوں اور زمینوں کو زبردستی شامل کرنے کا خدشہ بالکل ختم ہوگیا ہے-

روڈا کے ترجمان نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ سے ملی اجازت کے بعد راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلے پر کام دوبارہ شروع کرنے کے لئے اتھارٹی کے پاس درکار زمین موجود ہے اور اتھارٹی اس پروجیکٹ کے لئے 5000 ایکڑ اراضی پہلے ہی خرید چکی ہے جبکہ 25،000 سے 30،000 ایکڑ اراضی کے مالکان اپنی زمین اتھارٹی کو ضابطے کے مطابق بیچنے کے لئےبھی تیار ہیں - انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں اتھارٹی کے پاس پہلے ہی 15،000 سے 16،000 ایکڑ اراضی پہ مشتمل سرکاری زمینیں موجود ہیں جو کہ سفائر بے کے پہلے مرحلہ کے لئے کافی ہیں-

اسی ضمن میں‌ایک اہمپیش رفت یہ بھی ہوئی ہے کہ پارلیمانی قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے صنعتی زونوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی منظوری بھی دے دی ہے۔. اس فیصلے کی رو سے روڈا کو ایک سعودی سرمایہ کار کے ساتھ رودا کے صنعتی زون 2A اور 3A میں سرمایہ کاری کے لئے معاہدہ کرنے کی اجازت مل گئی ہے جس سے اس منصوبے کی افادیت میں بیحد اضافہ ہوجائے گا اور یوں بخوبی امید کی جاسکتی ہے کہ یہ عظیم الشان منصوبہ معاشی و تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے ملکی معیشت میں ایک انیا موڑ بنے گا اور زبردست ترقی و مستحکم خوشحالی کی نوید ثابت ہوگا


Tags

© 2022, All Rights Reserved.

Quick Links

Advertise with usAboutContact Us

Legal Stuff

Social Media